MultaniFied
For Multani people discussion forum
13/07/2026
ملتان کا وہ سیاہ دن، جسے آج 20 سال ہو گئے۔۔
10 جولائی 2006 ایک ایسا دن جسے ملتان کبھی فراموش نہیں کر پائے گا ۔۔
ملتان ائیرپورٹ سے لاہور کے لئے اڑان بھرنے والی پی آئے اے کی پرواز اڑان کے چند منٹ بعد ہی ائیر پورٹ کے قریب سورج میانی کے علاقہ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئی ۔۔
عینی شاہدین بتاتے ہیں کے پرواز میں موجود ائیر ہوسٹس نے زندگی بچانے کے لئے چھلانگیں لگا دی تھی۔۔
10 جولائی 2006 کی دوپہر ملتان کے لیے ایک ایسا المناک لمحہ لے کر آئی جس نے پورے شہر کو سوگ میں ڈبو دیا۔ ملتان سے لاہور اور اسلام آباد جانے والی پی آئی اے کی پرواز PK-688 ٹیک آف کے چند ہی لمحوں بعد حادثے کا شکار ہو گئی، اور اس میں سوار تمام 45 افراد شہید ہو گئے۔
یہ حادثہ صرف 45 جانوں کا نقصان نہیں تھا
بلکہ ملتان اور پاکستان اپنی کئی نامور شخصیات سے بھی محروم ہو گیا۔ شہداء میں جسٹس محمد نواز بھٹی، جسٹس نذیر احمد صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر عبدالروف شیخ، نامور نیورو سرجن ڈاکٹر افتخار علی راجہ، ڈاکٹر محمد نصیر خان اور پاک فوج کے دو بریگیڈیئرز سمیت تین فوجی افسران بھی شامل تھے۔
اس سانحے کو 20 سال گزر چکے ہیں، مگر ملتان کے دل پر لگا یہ زخم آج بھی تازہ ہے۔ کچھ حادثات صرف تاریخ کا حصہ نہیں بنتے، بلکہ نسلوں کی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اس حادثے نے کئی گھروں کے چراغ بجھا دیے، کئی خواب ادھورے چھوڑ دیے، اور بے شمار آنکھوں کو ہمیشہ کے لیے اشک بار کر دیا۔
تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہیں، اور ان کے اہلِ خانہ کے صبر و استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام شہداء کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
۔
Very funny video
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when MultaniFied posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.
Subscribe
We will notify you when anything happens in Multan.